خدا کا دستر خوان

خدا کا دستر خوان


ایک شاعروادیب اورخطیب کواپناکلام ساری دنیاکے شعراء وادباء کے کلام سے خوبصورت ومنفردلگتاہے کیونکہ اس پراس کی ذہنی وجسمانی قوت کے ساتھ ساتھ بہت ساوقت بھی صرف ہواہوتاہے اسکی خواہش وکوشش ہوتی ہے کہ اس کی تحریروتقریرکوخوب سے خوب ترپذیرائی حاصل ہوزیادہ سے زیادہ لوگ اسے پڑھیں اورداددیں اگروہ شاعرہے تواس کے اشعارکودنیاکی سب سے سریلی آوازمیں اوزان وقوافی کالحاظ کرتے ہوئے پڑھاجائے ۔

اس کواپنے لکھے ہوئے حروف کوپڑھنے ،لکھنے اورگانے والے پربہت پیارآتاہے وہ اس کااحسان منداورگرویدہ ہوجاتاہے۔ دورحاضرمیں کسی کتاب کی مقبولیت کیلئے اس کاسرکاری اداروں میں بطورنصاب کے شامل ہونا یا صدارتی ایوارڈیافتہ ہونالازمی تصور کیاجاتاہے دورنبوی سے قبل مکہ مکرمہ میں فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے شعراء میں مقابلہ ہواکرتاتھااورجس شاعرکاکلام سب سے عمدہ ہوتااسے کعبة اللہ میں آویزاں کردیاجاتا۔

سات بڑے شعراء جن میں امرء القیس ،طرفة بن العبد،زبیربن ابی سلمہ ،لبیدبن ربیعہ عامری، عمربن کلثوم ،عنترہ بن شّداداورحارث بن حلزہ شامل تھے ان کے ریشم پرلکھے ہوئے سات قصائد کعبہ کی دیواروں پرلٹکائے ہوئے تھے جوان شعراء اوران کے کلام کے سب کلاموں سے اعلی وارفع ہونے کی علامت تھی صاحب القرآن نبی اکرم ﷺکی آمدکے بعدجب قرآن کریم نازل ہواتواس کی فصاحت وبلاغت اورحسن بیان کے مقابلہ میں ان قصائدکی حیثیت ختم ہوگئی اوریوں دنیاپرقرآن کریم کی حقیقی سحرانگیزی کاآغازہوا۔

اورتمام شاعروں ،ادیبوں اورخطیبوں کواللہ تعالی نے چیلنج دیاکہ وہ اپنے سب مددگاروں ،جنوں ،انسانوں ،اوراپنے معبودوں اوردیوتاؤں سب کی مددسے ایک آیت ہی بناڈالیں لیکن قیامت تک ایساممکن نہیں۔ قرآن کریم قیامت تک کے لئے انسان کی زندگی کے تمام معاملات کے لئے ایک رہنماکتاب ہے اوراس کی عظمت وبزرگی اس سے بڑھ کرکیاہوسکتی ہے کہ یہ خالق کائنات بادشاہوں کے بادشاہ کاکلام ہے اللہ تعالی نے اس کوپڑھنے سمجھنے اورغوروفکرکرنے کاحکم دینے کے ساتھ اس کوسننے کابھی حکم دیاہے رمضان المبارک میں نمازتراویح کے اندردنیابھرمیں مسلمان قرآن کریم کوحفاظ کرام کے توسط سے سنتے ہیں۔

قرآن کریم اللہ تعالی کاکلام ہے اوراسے اپناکلام اس درجہ محبوب ہے کہ حضوراکرم ﷺنے ارشادفرمایاکہ اللہ تعالی اتناکسی طرف توجہ نہیں فرماتے جتناکہ اس نبی کی آوازکوتوجہ سے سنتے ہیں جوکلام الہی کوخوبصورت آوازمیں پڑھتاہے ۔چونکہ نبی کے اوپریہ کلام نازل ہوتاہے اس لئے اس سے عمدہ پڑھناکسی دوسرے کے بس میں نہیں ہوتاایک دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی قاری کی آوازکی طرف اس شخص سے زیادہ کان لگاتے ہیں جواپنی گانے والی باندی کاگاناسن رہاہوارشاد نبوی ﷺہے کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جوقرآن سیکھے اورسکھائے۔

حضرات صحابہ کرام کو قرآن کریم کے تعلیم وتعلم سے عشق تھا وہ کلام اللہ کواپنی جان سے زیادہ عزت واہمیت دیتے اورانکے نزدیک قرآن کریم سے بہرہ ورہوناکسی انسان کی افضلیت کی علامت تھی ان کازیادہ تروقت قرآن کریم کی تلاوت اوراس کے معانی ومطالب کے سمجھنے میں گزرتارمضان المبارک کے مہینہ میں اس میں بہت اضافہ ہوجاتا۔ حضرت ابن مسعودفرمایاکرتے تھے اس قرآن کواپنے اوپرلازم سمجھوکیونکہ یہ ”خداکادسترخوان “ہے اللہ کے اس دسترخوان کوضرورلیناچاہیے اورعلم سیکھنے سے ہی حاصل ہوتاہے۔

حضرت عمرفاروق نے اپنے دورحکومت میں حضرت ابوموسی اشعریاورانکے علاوہ تین سوکے قریب حفاظ صحابہ کرام کے نام ایک طویل خط لکھاجس میں قرآن اورحافظ قرآن کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ بندہ جب رات کوکھڑاہوتاہے اورمسواک کرکے وضوکرتاہے پھرتکبیرکہہ کر(نمازمیں )قرآن پڑھتاہے توفرشتہ اس کے منہ پراپنامنہ رکھ کرکہتاہے کہ اورپڑھ۔ اورپڑھ ۔

تم خودپاکیزہ ہواورقرآن تمہارے لئے پاکیزہ ہے۔مزیدفرمایانمازکے ساتھ قرآن کاپڑھنامحفو ظ خزانہ ہے اوراللہ کامقررکردہ بہترین عمل ہے ۔ ایک دفعہ مدینہ منورہ سے عراق کے ارداہ سے ایک قافلہ روانہ ہواتوحضرت عمربن خطاب  مقام حراتک ان کوالوداع کرنے کے لئے چلے راستہ میں ان سے پوچھاکیاآپ لوگ جانتے ہومیں آپ کے ساتھ کیوں چلا؟ساتھیوں نے کہاجی ہاں ہم لوگ حضورﷺکے صحابہ ہیں اس لیئے آپ ہمارے ساتھ چلے ہیں حضرت عمرفاروق نے فرمایایہ بات توہے لیکن یہاں ایک خاص بات ہے کہ تم لوگ ایک ایسے علاقہ میں جارہے ہوکہ وہاں کہ لوگ شہدکی مکھی جیسی دھیمی آوازسے قرآن پڑھتے ہیں۔

یعنی جس خوبصورتی سے وہ لوگ کلام اللہ کوپڑھتے ہیں وہ قابل رشک ہے یہی وجہ ہے کہ خلیفة المسلمین حضرت عمرفاروق نے اپنے زمانہ خلافت میں رمضان وقرآن کی مناسبت کے پیش نظربیس رکعات تراویح باجماعت اداکرنے کی سنت جاری کی اورحضرت ابی بن کعب  نے امامت کی۔ اس وقت سے آج تلک پورے عالم اسلام میں تراویح میں قرآن کریم کوسنااورسنایاجاتاہے ۔

جوکہ ایک بہت بڑی نعمت وسعادت ہے اس طرح سال بھرمیں ایک دفعہ ایک امام کی اقتداء میں قرآن کریم کوسننے کی سعادت حاصل ہوتی ہے اللہ تعالی کواپنے کلام سے محبت کرنے والے اوررمضان کی راتوں میں مشقت برداشت کرکے تراویح پڑھنے پڑھانے والوں پرجس قدرپیارآتاہے اس کااندازہ نہیں کیاجاسکتاہمیں تروایح کے دوران یہ تصورباندھناچاہیے کہ میرارب بھی میرے ساتھ اپنے کلام کوسن رہاہے اورجوکام خالق کائنات خودکرئے اس کواپنانے والاخداکامقرب وبرگزیدہ بن جاتاہ

Leave a Reply